ابنا: جرمني ميں مقيم ترک باشندوں نے دارالحکومت برلن ميں ترکي کے سفارتخانے کے سامنے اجتماع کيا اور ترکي ميں جاري عوام کے مظاہروں کي حمايت کا اعلان کيا- ہالينڈ کے دارالحکومت ايمسٹرڈم ميں بھي سيکڑوں ترک باشندوں نے شہر کے مين اسکوائر پر جمع ہوکے ترکي کا قومي ترانہ پڑھا اور اردوغان حکومت کے خلاف نعرے بازي کي –اسي کے ساتھ يونان کے شہرسالونيک ميں، بائيں بازو کے تقريبا ايک ہزار کارکنوں نے ترکي کے قونصل خانے کے سامنے مظاہرہ کيا اور ترک عوام کے ساتھ يک جہتي کا اعلان کيا- اس مظاہرے ميں تقريبا سو ترک طلبا بھي شريک تھے - يونان کے دارالحکومت ايتھنز ميں بھي ترک عوام کي حمايت ميں مظاہرے ہوئے ہيں -دوسري جانب يورپي يونين شعبہ خارجہ پاليسي کي انچارج کيتھرن ايشٹن نے ايک بيان جاري کرکے ترکي ميں جاري مظاہرين اور پوليس کے تصادم پر گہري تشويش ظاہر کي ہے - انہوں نےترک حکومت اور مخالفين، دونوں سے تحمل سے کام لينے کي اپيل کي ہے کيتھرن ايشٹن نے استنبول اور ترکي کے ديگر شہروں کے واقعات کو تشويشناک بتاتے ہوئے حکومتي افواج کي جانب سے مظاہرين کے خلاف تشدد پر افسوس ظاہر کيا ہے – عراق کے وزير اعظم نوري المالکي نے بھي ايک بيان جاري کرکے ترکي کے واقعات سے مشرق وسطي کے متاثر ہونے کي جانب سے خبردار کيا ہے - انہوں نے ترک حکام سے اپيل کي ہے کہ مظاہرين کے ساتھ تشدد سے کام نہ ليا جائے - عراق کے وزير اعظم نوري المالکي نے کہا ہے کہ تشدد سے بدامني کا دائرہ وسيع تر ہوگا اور اس سے مشرق وسطي بھي متاثر ہوگا – ادھرشام کے وزير اطلاعات و نشريات نے ترک حکومت سے عوام کے مطالبات پر پر توجہ دينے کا مطالبہ کيا ہے –شام کے وزير اطلاعات و نشريات عمران الزعبي نے کہا ہے کہ ترک حکومت کي جانب سے اپنے عوام کے خلاف تشدد مناسب نہيں ہے اور ترک مظاہرين دہشتگرد نہيں ہيں - انہوں نے ترکي ميں حاليہ مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والوں کي رہائي کا مطالبہ کيا اور کہا کہ پر امن مظاہرين کو گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرنے کا کوئي جواز نہيں ہے - شام کے وزير اطلاعات و نشريات نے کہا کہ ترکي کے وزير اعظم رجب طيب اردوغان کو اپنے عوام کے مطالبات کا احترام کرنا چاہئے اور تشدد کا سلسلہ بند کرنا چاہئے – اسي کے ساتھ حکومت شام نے اپنے شہريوں کو ہدايت دي ہے کہ ترکي کے سفر سے پرہيز کريں- شام کي وزارت خارجہ نے ايک بيان جاري کرکے جو شام کے سرکاي ٹي وي سے نشر ہوا، اپنے شہريوں سے کہا ہے کہ ترکي کے حالات کے پيش نظر اس ملک کا سفر کرنے سے پرہيز کريں – دوسري جانب انساني حقوق کي عالمي تنظيم ايمنسٹي انٹرنيشنل نےترکي ميں مظاہرين کے خلاف تشدد کو شرمناک بتايا ہے اور کہا ہے کہ اب تک تشدد ميں دو سے زائد افراد ہلاک اور ايک ہزار سے زائد زخمي ہوچکے ہيں –ايمنسٹي انٹرنيشنل نے بھي اردوغان حکومت سے مطالبہ کيا ہے کہ تشدد کا سلسلہ بند کرے اور عوام کے مطالبات پر توجہ دے -
.......
/169